ڈاکٹر شربت خانگیسٹرو اینڈ لیور سینٹر، کوئٹہ
علامات اور امراض

یرقان (پیلیا)

Jaundice

پروفیسر ڈاکٹر شربت خان مندوخیل کے گیسٹرو اینڈ لیور سینٹر، کوئٹہ کی جانب سےتازہ کاری: اکتوبر 2026

مختصر جواب

یرقان کوئی الگ بیماری نہیں بلکہ ایک علامت ہے: خون میں بلی روبن نام کا زرد مادہ بڑھ جائے تو آنکھیں، جلد اور پیشاب پیلے ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ جگر کی سوزش (جیسے ہیپاٹائٹس اے یا ای)، پتے کی نالی میں پتھری یا رکاوٹ، یا خون کے خلیوں کا تیزی سے ٹوٹنا ہو سکتی ہے۔ علاج وجہ کے مطابق ہوتا ہے، جو ٹیسٹوں اور الٹراساؤنڈ سے معلوم ہوتی ہے۔ غنودگی، خون آنا یا کپکپی والا تیز بخار ہو تو فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔

یرقان کیا ہے اور اسے کیسے پہچانیں؟

خون کے پرانے سرخ خلیے ٹوٹتے ہیں تو ایک زرد مادہ بنتا ہے جسے بلی روبن (Bilirubin) کہتے ہیں۔ جگر اسے صفرا (Bile) کے ساتھ پتے کی نالی کے ذریعے آنتوں میں بھیجتا ہے۔ اس راستے میں کہیں خرابی ہو تو بلی روبن خون میں جمع ہونے لگتا ہے۔

عام زبان میں اسے «یرقان»، «پیلیا» یا «پیلی آنکھیں» کہتے ہیں۔ پہلے آنکھوں کی سفیدی پیلی ہوتی ہے، پھر جلد، اور پیشاب گہری چائے جیسا ہو جاتا ہے۔ اگر جلد زرد لگے مگر آنکھیں سفید ہوں تو یہ اکثر خون کی کمی یا گاجر جیسی غذاؤں کا اثر ہوتا ہے، یرقان نہیں۔

نومولود بچوں کا یرقان الگ موضوع ہے؛ اس کے لیے بچوں کے ڈاکٹر سے جلد رجوع کریں۔

یرقان کی تین بڑی وجوہات

وجوہات تین طرح کی ہیں، اور اصل وجہ کیا ہے، یہ معائنے اور ٹیسٹوں سے ہی معلوم ہوتا ہے:

  • جگر کی سوزش یا بیماری: ہمارے ہاں اچانک یرقان کی ایک عام وجہ ہیپاٹائٹس اے اور ای ہیں، جو آلودہ پانی اور کھانے سے پھیلتے ہیں اور اکثر چند ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس بی اور سی، شراب، بعض دوائیں (جیسے ٹی بی کی کچھ دوائیں)، دیسی نسخے اور سروسس بھی یرقان کا سبب بنتے ہیں۔
  • پتے کی نالی میں رکاوٹ: پتھری، نالی کی تنگی یا کوئی رسولی صفرا کا راستہ روک دے تو اکثر خارش ہوتی ہے، پیشاب گہرا اور پاخانہ مٹی جیسا پھیکا ہو جاتا ہے۔
  • خون کے خلیوں کا تیزی سے ٹوٹنا: خون کی بعض بیماریوں میں سرخ خلیے جلد ٹوٹتے ہیں، اس لیے ساتھ خون کی کمی بھی ہوتی ہے۔

جگر کو نقصان کے مراحل

ہیپاٹائٹس اے اور ای عموماً جگر پر کوئی نشان نہیں چھوڑتے۔ لیکن اگر جگر کو برسوں چوٹ پہنچتی رہے — ہیپاٹائٹس بی، سی، شراب یا چربی سے — تو نقصان مرحلہ وار بڑھتا ہے، اور یرقان اکثر آخری مرحلے میں ظاہر ہوتا ہے:

  • سوزش (Inflammation): جگر کے خلیے متاثر ہوتے ہیں؛ وجہ دور ہو تو جگر عموماً خود ٹھیک ہو جاتا ہے۔
  • سختی (Fibrosis): جیسے جلد پر بار بار چوٹ سے نشان رہ جاتا ہے، ویسے ہی جگر میں سخت ریشے بنتے ہیں؛ اس مرحلے پر وجہ کا علاج ہو جائے تو کافی بہتری ممکن ہے۔
  • سروسس (Cirrhosis): یہ نشان پورے جگر میں پھیل جاتے ہیں اور جگر سخت ہو کر سکڑنے لگتا ہے؛ اب علاج کا مقصد مزید نقصان اور پیچیدگیاں روکنا ہوتا ہے۔

کھانا پینا، آرام اور ڈرپ

یرقان میں بھوک کم ہو جاتی ہے، مگر جگر کو ٹھیک ہونے کے لیے غذا اور پانی چاہیے۔ سادہ، گھر کا پکا کھانا تھوڑا تھوڑا کر کے کئی بار کھائیں؛ کھانا چھوڑ دینا نقصان دہ ہے۔

ہمارے ہاں یرقان میں گلوکوز کی ڈرپ کا رواج عام ہے۔ اگر مریض کھا پی رہا ہو تو عموماً ڈرپ کی ضرورت نہیں ہوتی، اور غیر محفوظ سوئی سے ہیپاٹائٹس بی اور سی لگنے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ ڈرپ اسی وقت لگے جب ڈاکٹر معائنے کے بعد ضروری سمجھیں۔

خطرے کی علامات — ان میں دیر نہ کریں

  • غنودگی، بے ربط باتیں یا بے ہوشی — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
  • خون کی الٹی، کالا پاخانہ، یا مسوڑھوں اور ناک سے خون آنا — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
  • کپکپی کے ساتھ تیز بخار اور پیٹ کے دائیں اوپری حصے میں درد — فوراً ایمرجنسی جائیں۔
  • پیٹ میں شدید درد، بار بار الٹیاں یا پیشاب بہت کم ہو جانا — فوراً ایمرجنسی جائیں۔
  • حمل کے دوران یرقان — اسی دن ڈاکٹر یا ہسپتال سے رجوع کریں؛ حمل میں ہیپاٹائٹس ای شدید ہو سکتا ہے۔
  • ٹی بی یا کسی اور بیماری کی دوا کے دوران یرقان — اسی دن اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
  • بغیر درد کے یرقان، خارش اور وزن میں کمی، خاص طور پر بڑی عمر میں — جلد معائنہ کروائیں۔

خون کی الٹی، کالا پاخانہ، شدید درد، بے ہوشی یا الجھن کی صورت میں کلینک کے وقت کا انتظار نہ کریں — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔

کلینک میں تشخیص اور علاج

  • تفصیلی معائنہ، اور یہ جاننا کہ حال میں کون سی دوائیں، دیسی نسخے یا انجکشن لیے گئے۔
  • سینٹر کی لیبارٹری میں جگر کے ٹیسٹ (LFTs)، ہیپاٹائٹس کے ٹیسٹ اور خون کے دوسرے ضروری ٹیسٹ۔
  • اسی سینٹر میں الٹراساؤنڈ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ مسئلہ جگر میں ہے یا نالی میں۔
  • نالی میں پتھری یا تنگی ہو تو کوئٹہ میں اسی سینٹر میں ای آر سی پی (ERCP) سے بغیر آپریشن پتھری نکالنا یا سٹنٹ ڈالنا۔
  • وجہ کے مطابق علاج، اور ٹیسٹ معمول پر آنے تک فالو اپ۔

گھر پر کیا کریں

  • جتنا جسم کہے آرام کریں، اور بہتر ہونے پر آہستہ آہستہ معمول کے کام شروع کریں۔
  • ابلا ہوا یا صاف پانی خوب پئیں۔
  • کوئی بھی دوا، جڑی بوٹی یا دیسی نسخہ ڈاکٹر سے پوچھے بغیر نہ لیں؛ کئی چیزیں جگر کو مزید نقصان پہنچاتی ہیں۔
  • ہیپاٹائٹس اے یا ای میں بیت الخلا کے بعد اور کھانا بنانے سے پہلے صابن سے ہاتھ دھوئیں؛ ٹھیک ہونے تک مریض دوسروں کا کھانا نہ بنائے۔
  • گھر میں پانی ابال کر یا فلٹر کر کے پئیں، اور بازار کے کٹے پھل، شربت اور برف سے بچیں۔
  • ڈاکٹر کے بتائے دن دوبارہ ٹیسٹ ضرور کروائیں۔

عام غلط فہمیاں

غلط فہمی

یرقان میں ہلدی، دال اور ہر پیلی چیز بند کر دینی چاہیے۔

حقیقت

کھانے کے رنگ کا یرقان سے کوئی تعلق نہیں؛ کھانے میں عام مقدار کی ہلدی یا دال یرقان نہیں بڑھاتی۔ بے جا پرہیز مریض کو کمزور کرتا ہے۔

غلط فہمی

جھاڑے، دم یا دیسی دوائی سے یرقان اتر جاتا ہے۔

حقیقت

ہیپاٹائٹس اے اور ای اکثر خود ٹھیک ہو جاتے ہیں، اس لیے لگتا ہے کہ جھاڑے نے کام کیا۔ مگر نالی کی پتھری یا ہیپاٹائٹس بی اور سی ایسے ٹھیک نہیں ہوتے، اور کئی دیسی دوائیں خود جگر کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ دعا اپنی جگہ، مگر علاج کے ساتھ۔

یرقان سے جگر کو ہونے والے نقصان کے مراحلاس موضوع پر ڈاکٹر صاحب کی ویڈیویرقان سے جگر کو ہونے والے نقصان کے مراحلیوٹیوب پر دیکھیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا یرقان ایک سے دوسرے کو لگ سکتا ہے؟
یہ وجہ پر منحصر ہے۔ ہیپاٹائٹس اے اور ای آلودہ پانی، کھانے اور گندے ہاتھوں سے پھیلتے ہیں، اس لیے گھر میں صفائی ضروری ہے؛ ہیپاٹائٹس بی اور سی خون کے ذریعے پھیلتے ہیں۔ پتھری یا خون کے خلیے ٹوٹنے والا یرقان کسی کو نہیں لگتا۔
یرقان کتنے دن میں ٹھیک ہوتا ہے؟
ہیپاٹائٹس اے اور ای میں مریض عموماً چند ہفتوں میں بہتر ہو جاتا ہے، اگرچہ آنکھوں کی زردی اور ٹیسٹ معمول پر آنے میں کچھ زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ دوسری وجوہات میں مدت اصل بیماری اور اس کے علاج پر منحصر ہے، اس لیے فالو اپ ٹیسٹ ضروری ہیں۔
روزے یا بخار میں آنکھیں ہلکی پیلی ہو جاتی ہیں، کیا یہ یرقان ہے؟
کچھ لوگوں میں گلبرٹ سنڈروم (Gilbert's Syndrome) ہوتا ہے — ایک بے ضرر موروثی کیفیت جس میں بھوک، روزے، بخار یا تھکن کے دنوں میں بلی روبن تھوڑا بڑھ جاتا ہے جبکہ جگر بالکل ٹھیک ہوتا ہے۔ لیکن یہ فیصلہ ٹیسٹوں کے بعد ڈاکٹر ہی کرتے ہیں، اس لیے خود اندازہ نہ لگائیں۔
آنکھیں پیلی نہیں ہیں، تو کیا جگر یقیناً ٹھیک ہے؟
ضروری نہیں۔ ہیپاٹائٹس بی، سی اور فیٹی لیور برسوں بغیر یرقان کے جگر کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ جگر کی اصل حالت خون کے ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ بتاتے ہیں، رنگ نہیں۔
ڈاکٹر شربت خان سے معائنے کے لیے وقت کیسے لیں؟
0345 1014910 پر کال یا واٹس ایپ کریں۔ کلینک کا استقبالیہ دن اور وقت طے کر کے آپ کو بکنگ نمبر دیتا ہے۔ کلینک پیر سے ہفتہ صبح 10 سے 12:30 اور شام 4:30 سے 9:30 بجے تک کھلا رہتا ہے؛ اتوار کو بند ہوتا ہے۔ خطرے کی علامات ہوں تو کلینک کے وقت کا انتظار نہ کریں، فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔

یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں اور ڈاکٹر کے معائنے کا متبادل نہیں۔ کوئی بھی دوا شروع یا بند کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔