ڈاکٹر شربت خانگیسٹرو اینڈ لیور سینٹر، کوئٹہ
علامات اور امراض

دست اور پرانے دست

Diarrhoea & chronic diarrhoea

پروفیسر ڈاکٹر شربت خان مندوخیل کے گیسٹرو اینڈ لیور سینٹر، کوئٹہ کی جانب سےتازہ کاری: اکتوبر 2026

مختصر جواب

دن میں تین یا اس سے زیادہ بار پتلا یا پانی جیسا پاخانہ آنا دست کہلاتا ہے۔ اچانک ہونے والے زیادہ تر دست آلودہ پانی یا کھانے کے انفیکشن سے ہوتے ہیں اور چند دن میں ٹھیک ہو جاتے ہیں؛ اس دوران سب سے ضروری کام او آر ایس سے پانی اور نمکیات کی کمی پوری کرنا ہے، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں۔ دست چار ہفتے سے زیادہ رہیں، یا ساتھ خون، تیز بخار یا وزن میں کمی ہو، تو معائنہ ضروری ہے؛ پانی کی شدید کمی ہو تو فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔

دست کسے کہتے ہیں؟

بنا ہوا پاخانہ دن میں کئی بار آئے تو وہ دست (Diarrhoea) نہیں؛ دست میں پاخانہ پتلا یا پانی جیسا ہوتا ہے۔ عام زبان میں اسے «لوز موشن» یا «پیٹ خراب» کہتے ہیں، اور خون یا لیس دار مادے کے ساتھ مروڑ والے دستوں کو «پیچش» (Dysentery) کہا جاتا ہے۔

دو ہفتے سے کم کے اچانک دست زیادہ تر انفیکشن سے ہوتے ہیں، جبکہ چار ہفتے سے زیادہ رہنے والے پرانے دستوں (Chronic Diarrhoea) کی وجہ عموماً کچھ اور ہوتی ہے، جسے ڈھونڈنا ضروری ہے۔

اچانک دست: آلودہ پانی اور کھانا

ہمارے ہاں اچانک دستوں کی سب سے عام وجہ آلودہ پانی اور کھانا ہے — گندا پانی، کھلے عام بکنے والی کٹی چیزیں، باسی کھانا، مکھیاں اور بغیر دھلے ہاتھ۔ گرمیوں میں اور دعوتوں کے بعد یہ شکایت بڑھ جاتی ہے۔ علامات سے کچھ اندازہ ہوتا ہے:

  • کھانے کے چند گھنٹے بعد الٹیاں اور دست اکثر خراب کھانے کا اثر (Food Poisoning) ہوتے ہیں، جو عموماً ایک دو دن میں ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
  • بہت زیادہ، چاول کے پانی جیسے دست ہیضہ (Cholera) بھی ہو سکتے ہیں؛ اس میں پانی بہت تیزی سے نکلتا ہے، اس لیے فوراً ہسپتال جائیں۔
  • خون یا لیس دار مادے والے دست پیچش کی علامت ہیں، جو بیکٹیریا یا امیبا (Amoeba) سے ہوتی ہے اور اس میں معائنہ ضروری ہے۔
  • کئی دن کا بخار ساتھ ہو تو ٹائیفائیڈ جیسی بیماری بھی ہو سکتی ہے — خود سے اینٹی بائیوٹک شروع کرنے کے بجائے ڈاکٹر کو دکھائیں۔

پانی کی کمی: دستوں کا اصل خطرہ

دستوں میں پانی کے ساتھ جسم کے نمکیات (Salts) بھی نکل جاتے ہیں، اور بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور گردے یا دل کے مریضوں میں پانی کی کمی (Dehydration) جلد خطرناک ہو جاتی ہے۔ اس کا آسان علاج او آر ایس (ORS) ہے — نمکیات اور چینی کا محلول جو آنت کو پانی جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سادہ پانی سے نمکیات کی کمی پوری نہیں ہوتی، اور بہت میٹھے جوس یا کولڈ ڈرنکس دست بڑھا سکتے ہیں۔ ان نشانیوں پر نظر رکھیں:

  • بہت پیاس، منہ اور زبان خشک، پیشاب کم یا گہرے رنگ کا۔
  • کھڑے ہونے پر چکر اور بہت کمزوری۔
  • بچوں میں روتے ہوئے آنسو نہ آنا، آنکھیں اندر دھنسی ہوئی، سستی یا بہت چڑچڑاپن۔
  • بزرگوں میں الجھن یا غنودگی۔

پرانے دست: جب شکایت چار ہفتے سے زیادہ رہے

پرانے دستوں کی عام وجوہات یہ ہیں — اصل وجہ معائنے اور ٹیسٹ سے ہی طے ہوتی ہے:

  • آنتوں کی حساسیت (IBS): دست اور قبض باری باری، اور پیٹ درد جو پاخانے کے بعد کم ہو جائے۔
  • پیٹ کے کیڑے، جیسے جیارڈیا (Giardia) اور امیبا — اپھارہ اور بار بار لوٹنے والے دست۔
  • دودھ ہضم نہ ہونا (Lactose Intolerance): دودھ کے بعد گیس، پیٹ میں گڑگڑ اور دست۔
  • سیلیک بیماری (Coeliac Disease): گندم کے گلوٹن (Gluten) سے چھوٹی آنت کو نقصان — دست، وزن میں کمی اور خون کی کمی۔
  • آنتوں کی سوزش (IBD) — السریٹو کولائٹس یا کرونز (Crohn's) — اور آنتوں کی ٹی بی، جو ہمارے ہاں اب بھی پائی جاتی ہے؛ ان میں خون، بخار یا وزن میں کمی ہو سکتی ہے۔
  • تھائیرائیڈ کا زیادہ کام کرنا، شوگر، اور بعض دوائیں — دوا خود سے بند نہ کریں، ڈاکٹر کو بتائیں۔

خطرے کی علامات — ان میں دیر نہ کریں

  • کالا تارکول جیسا پاخانہ یا پیٹ میں شدید درد — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں؛ پاخانے میں خون یا تیز بخار ہو تو اسی دن ڈاکٹر کو دکھائیں۔
  • مریض کچھ پی نہ سکے، کئی گھنٹوں سے پیشاب نہ آیا ہو، یا چکر اور غنودگی ہو — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
  • بچہ سست اور نڈھال ہو یا دودھ اور پانی نہ پیے — فوراً بچوں کے ڈاکٹر یا ہسپتال کی ایمرجنسی لے جائیں۔
  • بار بار الٹیاں، جن سے او آر ایس بھی پیٹ میں نہ ٹھہرے — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
  • دست رات کو نیند سے جگائیں یا چار ہفتے سے زیادہ رہیں۔
  • بغیر کوشش کے وزن کم ہو رہا ہو۔

خون کی الٹی، کالا پاخانہ، شدید درد، بے ہوشی یا الجھن کی صورت میں کلینک کے وقت کا انتظار نہ کریں — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔

کلینک میں تشخیص اور علاج

  • تفصیلی گفتگو اور معائنہ — دستوں کی مدت، نوعیت اور ساتھ کی علامات سے وجہ کا اندازہ۔
  • سینٹر کی لیبارٹری میں خون کے ضروری ٹیسٹ؛ ضرورت ہو تو پاخانے کے ٹیسٹ کا مشورہ۔
  • پرانے یا خون والے دستوں میں کولونوسکوپی اور بائیوپسی، ہلکی بے ہوشی (Sedation) کی سہولت کے ساتھ اسی سینٹر میں۔
  • سیلیک بیماری کے شبہ میں اینڈوسکوپی سے چھوٹی آنت کی بائیوپسی۔
  • ضرورت ہو تو پیٹ کا الٹراساؤنڈ۔
  • وجہ کے مطابق علاج اور غذا کا منصوبہ — دوائیں ڈاکٹر کی تجویز کے مطابق۔

گھر پر کیا کریں

  • ہر پتلے پاخانے کے بعد او آر ایس پئیں۔ پیکٹ پر لکھے طریقے کے مطابق صاف پانی کی پوری مقدار میں گھولیں — کم پانی میں گھولنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
  • بھوکے نہ رہیں؛ ہلکا کھانا جاری رکھیں: کھچڑی، ابلے چاول، دہی، کیلا اور ابلے آلو۔ تلی ہوئی چیزوں اور کولڈ ڈرنکس سے پرہیز کریں۔
  • ماں کا دودھ پینے والے بچے کو دودھ پلانا جاری رکھیں۔
  • پینے کا پانی اچھی طرح ابال کر ٹھنڈا کریں، یا کسی محفوظ ذریعے کا پانی پئیں۔
  • بیت الخلا کے بعد اور کھانے سے پہلے صابن سے ہاتھ دھوئیں؛ کھانا ڈھانپ کر رکھیں۔
  • خون والے دستوں، بخار یا بچوں میں دست روکنے والی گولیاں خود سے نہ دیں — اس سے بیماری بگڑ سکتی ہے۔

عام غلط فہمیاں

غلط فہمی

ہر دست میں اینٹی بائیوٹک ضروری ہے۔

حقیقت

زیادہ تر اچانک دست وائرس سے ہوتے ہیں اور خود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اینٹی بائیوٹک صرف کچھ خاص انفیکشنز میں ضروری ہوتی ہے، جس کا فیصلہ ڈاکٹر کرتا ہے؛ بلاوجہ استعمال سے دوائیں جراثیم پر اثر کرنا چھوڑ دیتی ہیں (Antibiotic Resistance)۔

غلط فہمی

او آر ایس صرف بچوں کے لیے ہے۔

حقیقت

بڑوں اور بزرگوں کو بھی دستوں میں او آر ایس کی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے؛ سادہ پانی سے نمکیات کی کمی پوری نہیں ہوتی۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

دودھ پینے سے دست ہو جاتے ہیں — کیا یہ کوئی بیماری ہے؟
یہ اکثر دودھ ہضم نہ ہونے (Lactose Intolerance) کی وجہ سے ہوتا ہے، جو بڑوں میں عام ہے اور خطرناک نہیں۔ ایسے لوگوں کو دہی عموماً دودھ سے بہتر ہضم ہوتا ہے۔ دودھ چھوڑنے کے بعد بھی دست رہیں تو کسی اور وجہ کی جانچ ضروری ہے۔
کیا پرانے دستوں میں گندم چھوڑ دینی چاہیے؟
اگر سیلیک بیماری کا شبہ ہو تو پہلے ٹیسٹ کروائیں، پھر گندم چھوڑیں۔ ٹیسٹ سے پہلے گندم چھوڑنے سے خون کا ٹیسٹ اور بائیوپسی غلط طور پر نارمل آ سکتے ہیں۔ بیماری ثابت ہو جائے تو گلوٹن سے پرہیز عمر بھر کرنا پڑتا ہے۔
اچانک دستوں میں ڈاکٹر کو کب دکھائیں؟
دو تین دن میں بہتری نہ آئے، یا خطرے کی کوئی علامت ہو — خون، تیز بخار، پانی کی کمی یا شدید درد — تو دیر نہ کریں۔ بچوں، بزرگوں اور حاملہ خواتین کو جلد دکھانا بہتر ہے۔
کیا پرانے دستوں کے لیے کولونوسکوپی ضروری ہے؟
ہر مریض کو نہیں۔ پہلے گفتگو، معائنے اور ٹیسٹوں سے وجہ ڈھونڈی جاتی ہے۔ خون آئے، وزن کم ہو، عمر زیادہ ہو یا وجہ واضح نہ ہو تو کولونوسکوپی اور بائیوپسی سے بڑی آنت کا معائنہ کیا جاتا ہے۔
پرانے دستوں کے معائنے پر ڈاکٹر کو کیا بتائیں؟
دست کب سے ہیں، کیا رات کو نیند سے جگاتے ہیں، پاخانے میں خون یا چکنائی تو نہیں، اور وزن یا بھوک میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں۔ یہ بھی بتائیں کہ پینے کا پانی کہاں سے آتا ہے اور کیا دودھ یا گندم سے شکایت بڑھتی ہے۔ حال ہی میں لی گئی تمام دوائیں — خاص طور پر اینٹی بائیوٹکس — اور پرانی رپورٹیں ساتھ لائیں۔
ڈاکٹر شربت خان سے معائنے کے لیے وقت کیسے لیں؟
0345 1014910 پر کال یا واٹس ایپ کریں؛ استقبالیہ دن اور وقت طے کر کے آپ کو بکنگ نمبر دیتا ہے۔ کلینک پیر سے ہفتہ صبح 10 سے 12:30 اور شام 4:30 سے 9:30 بجے تک کھلا رہتا ہے؛ اتوار کو بند ہوتا ہے۔ پانی کی شدید کمی میں کلینک کے وقت کا انتظار نہ کریں — قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔

یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں اور ڈاکٹر کے معائنے کا متبادل نہیں۔ کوئی بھی دوا شروع یا بند کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔