مختصر جواب
پیٹ میں کچھ گیس بننا، ڈکار آنا اور آنتوں سے گڑگڑ کی آواز آنا ہاضمے کا نارمل حصہ ہے۔ تکلیف دہ گیس اور اپھارہ اکثر جلدی کھانے، کولڈ ڈرنکس، بعض غذاؤں، دودھ ہضم نہ ہونے، قبض یا آئی بی ایس سے ہوتا ہے، اور عادات بدلنے سے کافی کم ہو جاتا ہے۔ وزن کم ہونا، پاخانے میں خون یا دن بدن بڑھتا پیٹ صرف گیس نہیں — ان میں معائنہ ضروری ہے؛ شدید درد کے ساتھ بار بار الٹیاں ہوں تو فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
گیس اور اپھارہ اصل میں کیا ہیں؟
ہر انسان کے پیٹ میں روزانہ گیس بنتی ہے اور ڈکار یا ہوا کی صورت میں خارج ہوتی ہے — یہ بیماری نہیں۔ اپھارہ (Bloating) پیٹ کے بھرے ہوئے، تنے ہوئے یا بھاری ہونے کا احساس ہے؛ کبھی پیٹ واقعی پھول بھی جاتا ہے۔ عام زبان میں لوگ اسے «گیس»، «پیٹ پھولنا» یا «ہوا بھر جانا» کہتے ہیں۔
اپھارے کے بہت سے مریضوں کے پیٹ میں گیس زیادہ نہیں ہوتی؛ ان کی آنتیں حساس ہوتی ہیں اور معمولی گیس بھی تکلیف دیتی ہے۔ اسی لیے صرف «گیس نکالنے» والی گولیاں اکثر کافی نہیں ہوتیں۔
گیس کہاں سے آتی ہے؟
- نگلی ہوئی ہوا: جلدی کھانا، کھاتے ہوئے باتیں، چیونگم، سٹرا، سگریٹ نوشی اور ڈھیلے مصنوعی دانت۔ گھبراہٹ میں بھی انسان بے دھیانی میں ہوا نگلتا ہے۔
- کولڈ ڈرنکس اور سوڈا: ان میں گیس پہلے سے بھری ہوتی ہے۔
- آنتوں میں بننے والی گیس: کچھ غذائیں پوری طرح ہضم نہیں ہوتیں اور بڑی آنت کے قدرتی جراثیم انہیں توڑ کر گیس بناتے ہیں — جیسے لوبیا، چنے، دالیں، گوبھی، مولی، پیاز اور بعض پھل۔
- دودھ ہضم نہ ہونا (Lactose Intolerance): بچپن کے بعد بہت سے لوگ دودھ کی شکر پوری طرح ہضم نہیں کر پاتے، اور دودھ کے بعد گیس، گڑگڑ اور پتلا پاخانہ ہوتا ہے۔ دہی اکثر آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے۔
جب اپھارہ روز کا معمول بن جائے
- قبض: رکا ہوا پاخانہ گیس کو آگے بڑھنے نہیں دیتا اور پیٹ بھاری رہتا ہے۔
- آئی بی ایس (IBS): آنتوں کی حساسیت، جس میں اپھارہ شام تک بڑھتا جاتا ہے اور پیٹ درد پاخانے کے بعد کم ہوتا ہے۔
- بدہضمی اور ایچ پائلوری (H. pylori): پیٹ کے اوپری حصے میں بھاری پن، تھوڑا کھا کر پیٹ بھر جانا اور بار بار ڈکار۔
- سیلیک بیماری (Coeliac Disease): گندم کے ایک پروٹین سے چھوٹی آنت متاثر ہوتی ہے؛ ساتھ دست، خون کی کمی یا وزن کم ہو سکتا ہے۔
- پیٹ میں پانی (Ascites): جگر کی پرانی بیماری میں پیٹ میں پانی بھر جاتا ہے، جسے لوگ غلطی سے گیس سمجھتے ہیں۔ یہ پیٹ دن بدن بڑا ہوتا ہے اور رات کے آرام کے بعد بھی کم نہیں ہوتا۔
پیٹ سے گڑگڑ کی آواز کیوں آتی ہے؟
آنتیں دن رات سکڑتی اور ڈھیلی ہوتی رہتی ہیں تاکہ کھانا، پانی اور گیس آگے بڑھیں۔ اسی حرکت سے گڑگڑ کی آواز آتی ہے، جسے طبی زبان میں بوربوریگمی (Borborygmi) کہتے ہیں۔ بھوک میں خالی آنتوں کی صفائی کی لہریں آواز بڑھا دیتی ہیں؛ کھانے کے بعد بھی یہ آواز نارمل ہے۔
دست، پیٹ کے انفیکشن، دودھ ہضم نہ ہونے اور آئی بی ایس میں آواز بڑھ جاتی ہے۔ صرف آواز پریشانی کی بات نہیں؛ فکر تب کریں جب ساتھ ہفتوں تک دست، وزن کم ہونا یا خون آئے، یا شدید درد کے ساتھ پیٹ پھول کر ہوا اور پاخانہ بند ہو جائے۔
خطرے کی علامات — ان میں دیر نہ کریں
- سینے یا پیٹ کے اوپری حصے کے درد کو «گیس» سمجھا جائے، مگر ساتھ پسینہ، سانس پھولنا یا گھبراہٹ ہو، یا درد بازو اور جبڑے کی طرف جائے — یہ دل کی تکلیف ہو سکتی ہے، فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
- پیٹ بہت پھول جائے، شدید درد اور الٹیاں ہوں اور پاخانہ یا ہوا بند ہو جائے — یہ بھی فوری ایمرجنسی ہے۔
- پیٹ دن بدن بڑا ہوتا جائے، خاص طور پر ٹانگوں کی سوجن، یرقان یا جگر کی پرانی بیماری کے ساتھ۔
- بغیر کوشش کے وزن کم ہونا یا بھوک ختم ہو جانا۔
- کالا تارکول جیسا پاخانہ یا پاخانے میں زیادہ خون — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
- پاخانے میں تھوڑا خون، خون کی کمی، یا رات کو دست اور درد سے آنکھ کھلنا۔
- پچاس سال کی عمر کے بعد نیا اور مسلسل اپھارہ یا پاخانے کی عادت میں تبدیلی؛ خواتین میں مسلسل اپھارہ ہو تو بھی معائنہ ضرور کروائیں۔
خون کی الٹی، کالا پاخانہ، شدید درد، بے ہوشی یا الجھن کی صورت میں کلینک کے وقت کا انتظار نہ کریں — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
کلینک میں تشخیص اور علاج
- کھانے کی عادات اور پاخانے کے معمول پر تفصیلی گفتگو، اور پیٹ کا معائنہ۔
- اسی سینٹر میں پیٹ کا الٹراساؤنڈ — پیٹ میں پانی، جگر اور پتے کی جانچ کے لیے۔
- سینٹر کی لیبارٹری میں خون کے ضروری ٹیسٹ، جیسے خون کی کمی اور جگر کے ٹیسٹ۔
- علامات کے مطابق اینڈوسکوپی یا کولونوسکوپی — ضرورت ہو تو بائیوپسی اور ایچ پائلوری کی جانچ کے ساتھ۔
- غذا اور عادات میں تبدیلی کا واضح منصوبہ، اور ضرورت ہو تو ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا۔
گھر پر کیا کریں
- آہستہ کھائیں، نوالہ اچھی طرح چبائیں اور کھاتے ہوئے باتیں کم کریں۔
- کولڈ ڈرنکس، سوڈا، چیونگم اور سٹرا کا استعمال کم کریں۔
- دالیں، لوبیا اور چنے پکانے سے پہلے کچھ گھنٹے بھگو دیں اور شروع میں تھوڑی مقدار کھائیں۔
- کھانے کے بعد فوراً لیٹنے کے بجائے 10 سے 15 منٹ ہلکی چہل قدمی کریں۔
- اگر دودھ سے گیس یا دست ہوں تو دودھ کم کر کے دہی استعمال کریں۔
- قبض ہو تو ریشے والی غذا آہستہ آہستہ بڑھائیں اور پانی زیادہ پیئیں؛ ریشہ اچانک بڑھانے سے گیس وقتی طور پر بڑھتی ہے۔
- ایک دو ہفتے کی ڈائری رکھیں — کیا کھایا اور کب اپھارہ ہوا — اور معائنے پر ساتھ لائیں۔
عام غلط فہمیاں
گیس سر کو یا دل کو چڑھ جاتی ہے۔
آنتوں کی گیس سر یا دل تک نہیں جاتی۔ سینے کے درد کو «گیس» سمجھ کر ٹال دینا خطرناک ہو سکتا ہے — ساتھ پسینہ یا سانس پھولنا ہو تو فوراً ایمرجنسی جائیں۔
کولڈ ڈرنک یا سوڈا پینے سے گیس نکل جاتی ہے۔
ڈکار سے وقتی ہلکا پن محسوس ہوتا ہے، مگر یہ مشروبات خود معدے میں گیس بھرتے ہیں اور عادت بننے پر اپھارہ بڑھاتے ہیں۔
گیس سے بچنے کے لیے دالیں اور سبزیاں بالکل چھوڑ دیں۔
یہ غذائیں صحت اور قبض سے بچاؤ کے لیے مفید ہیں۔ انہیں بند کرنے کے بجائے کم مقدار سے شروع کریں — آنتیں آہستہ آہستہ عادی ہو جاتی ہیں۔
اس موضوع پر ڈاکٹر صاحب کی ویڈیوپیٹ سے گڑگڑ کی آواز کیوں آتی ہے؟یوٹیوب پر دیکھیںاکثر پوچھے جانے والے سوالات
پیٹ سے ہر وقت آواز آتی ہے، کیا یہ بیماری ہے؟
مجھے بہت زیادہ ڈکاریں کیوں آتی ہیں؟
کیا اپھارہ ایچ پائلوری کی وجہ سے ہوتا ہے؟
گیس اور اپھارے میں کون سا کھانا بہتر ہے؟
ڈاکٹر شربت خان سے معائنے کے لیے وقت کیسے لیں؟
یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں اور ڈاکٹر کے معائنے کا متبادل نہیں۔ کوئی بھی دوا شروع یا بند کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔