مختصر جواب
تیزابیت میں معدے کا تیزاب اوپر غذائی نالی میں آ جاتا ہے، جس سے سینے میں جلن، کھٹی ڈکاریں اور منہ میں کڑوا پانی آتا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کو کھانے پینے کی عادات بدلنے اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا سے آرام آ جاتا ہے۔ اگر جلن ہفتے میں دو بار سے زیادہ ہو، دوا چھوڑتے ہی واپس آ جائے، یا ساتھ میں وزن کم ہو یا نگلنے میں دقت ہو تو ماہرِ امراضِ معدہ سے معائنہ ضروری ہے؛ خون کی الٹی یا کالا پاخانہ ہو تو فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
تیزابیت اصل میں ہے کیا؟
ہمارا معدہ کھانا ہضم کرنے کے لیے تیزاب بناتا ہے۔ غذائی نالی اور معدے کے ملاپ پر ایک قدرتی والو ہوتا ہے جو کھانا نیچے جانے دیتا ہے مگر تیزاب کو اوپر نہیں آنے دیتا۔ جب یہ والو ڈھیلا پڑ جائے یا معدے پر دباؤ بڑھ جائے تو تیزاب بار بار اوپر غذائی نالی میں آنے لگتا ہے۔
اسی کیفیت کو طبی زبان میں جی ای آر ڈی (GERD — Gastro-Esophageal Reflux Disease) کہتے ہیں۔ عام زبان میں لوگ اسے «تیزابیت»، «سینے کی جلن»، «معدے کی گرمی» یا کبھی «گیس» بھی کہہ دیتے ہیں۔ کبھی کبھار جلن ہونا عام بات ہے، لیکن جب یہ معمول بن جائے تو اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
عام علامات
- سینے کے بیچ میں، چھاتی کی ہڈی کے پیچھے جلن — جو کھانے کے بعد، جھکنے پر یا لیٹنے پر بڑھ جائے۔
- کھٹی ڈکاریں، یا منہ میں کھٹا اور کڑوا پانی آ جانا۔
- گلے میں جلن، آواز کا بیٹھ جانا یا بار بار گلا صاف کرنے کی عادت۔
- رات کو لیٹنے کے بعد خشک کھانسی۔
- پیٹ کے اوپری حصے میں بھاری پن، جلدی پیٹ بھر جانا یا اپھارہ۔
- متلی، یا کھانے کے بعد بےچینی کا احساس۔
تیزابیت کیوں ہوتی ہے؟
اکثر اوقات تیزابیت کی وجہ ہماری روزمرہ کی عادات میں چھپی ہوتی ہے۔ عام وجوہات یہ ہیں:
- زیادہ مرچ مسالے، تلی ہوئی اور چکنائی والی غذائیں، اور ایک ہی وقت میں بہت زیادہ کھانا۔
- رات کا کھانا دیر سے کھانا اور کھاتے ہی سو جانا۔
- چائے، کافی اور کولڈ ڈرنکس کا زیادہ استعمال۔
- سگریٹ، نسوار اور تمباکو کی ہر شکل — یہ والو کو کمزور کرتے ہیں۔
- وزن کا زیادہ ہونا، خاص طور پر پیٹ کے گرد چربی۔
- درد کش گولیاں (Painkillers) خالی پیٹ یا لمبے عرصے تک لینا۔
- ذہنی دباؤ، بےقاعدہ نیند، اور حمل کے دنوں میں بھی تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔
تیزابیت، السر اور ایچ پائلوری میں فرق
تیزابیت میں تکلیف زیادہ تر سینے میں جلن کی صورت میں ہوتی ہے۔ معدے کے زخم (السر) یا ایچ پائلوری (H. pylori) سے ہونے والی معدے کی سوزش میں عموماً پیٹ کے اوپری حصے میں جلن نما درد ہوتا ہے، جو خالی پیٹ یا رات کو بڑھ سکتا ہے۔ ان سب کی علامات ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں، اسی لیے بار بار ہونے والی تکلیف میں اندازے سے دوائیں بدلتے رہنے کے بجائے درست تشخیص زیادہ فائدہ دیتی ہے۔
کیا لمبی تیزابیت نقصان دہ ہے؟
کبھی کبھار کی تیزابیت سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ لیکن اگر برسوں تک تیزاب غذائی نالی کو چھوتا رہے تو نالی میں سوزش اور زخم ہو سکتے ہیں، نالی تنگ ہو سکتی ہے، اور بعض مریضوں میں نالی کی اندرونی جھلی بدل جاتی ہے جسے بیرٹس ایسوفیگس (Barrett's Esophagus) کہتے ہیں۔ اس تبدیلی کی باقاعدہ نگرانی ضروری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پرانی تیزابیت کا ایک بار مکمل معائنہ کروا لینا عقلمندی ہے۔
خطرے کی علامات — ان میں دیر نہ کریں
- سینے میں درد یا دباؤ کے ساتھ پسینہ آئے، سانس پھولے، یا درد بازو، جبڑے یا کمر کی طرف جائے — یہ دل کی تکلیف ہو سکتی ہے، فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
- نوالہ نگلنے میں مشکل ہو یا کھانا سینے میں اٹکتا محسوس ہو۔
- بغیر کوشش کے وزن کم ہو رہا ہو یا بھوک ختم ہو گئی ہو۔
- خون یا کافی کے رنگ جیسی الٹی، یا کالا تارکول جیسا پاخانہ — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
- بار بار الٹیاں ہوں، یا خون کی کمی سے کمزوری اور چہرہ زرد ہو جائے۔
- عمر پچاس سال سے زیادہ ہو اور تیزابیت کی شکایت پہلی بار شروع ہوئی ہو۔
خون کی الٹی، کالا پاخانہ، شدید درد، بے ہوشی یا الجھن کی صورت میں کلینک کے وقت کا انتظار نہ کریں — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
کلینک میں تشخیص اور علاج
- تفصیلی گفتگو اور معائنہ: علامات کب سے ہیں، کس وقت بڑھتی ہیں، اور اب تک کون سی دوائیں لی گئی ہیں۔
- ضرورت ہو تو اینڈوسکوپی — کیمرے سے غذائی نالی اور معدے کا معائنہ، ہلکی بے ہوشی کے ساتھ، اسی سینٹر میں اور اسی دن گھر واپسی۔
- اینڈوسکوپی کے دوران ضرورت کے مطابق بائیوپسی اور ایچ پائلوری کی جانچ۔
- سینٹر کی لیبارٹری میں خون کے ضروری ٹیسٹ۔
- دوا کا درست طریقہ، مدت اور پرہیز کا واضح منصوبہ — تاکہ تکلیف بار بار واپس نہ آئے۔
گھر پر کیا کریں
- رات کا کھانا سونے سے کم از کم دو سے تین گھنٹے پہلے کھائیں۔
- ایک وقت میں پیٹ بھر کر کھانے کے بجائے دن میں تھوڑا تھوڑا کھائیں۔
- اگر رات کو جلن ہوتی ہے تو پلنگ کے سرہانے والے پائے چھ سے آٹھ انچ اونچے کر لیں — صرف تکیے بڑھانا کافی نہیں ہوتا۔
- مرچ مسالے، تلی ہوئی چیزیں، چائے، کافی اور کولڈ ڈرنکس کم کر دیں۔
- سگریٹ اور نسوار چھوڑ دیں۔
- وزن کم کریں اور پیٹ پر تنگ بیلٹ یا کپڑوں سے پرہیز کریں۔
- تیزابیت کی گولیاں خود سے مہینوں تک نہ کھاتے رہیں۔ اگر دو ہفتے میں آرام نہ آئے تو معائنہ کروائیں۔
عام غلط فہمیاں
تیزابیت کی دوا ساری عمر کھانی پڑتی ہے۔
زیادہ تر مریضوں میں درست تشخیص، چند ہفتوں کے مکمل علاج اور عادات بدلنے کے بعد دوا کم یا بند ہو جاتی ہے۔ دوا کب اور کیسے کم کرنی ہے، یہ معائنے کے بعد ڈاکٹر طے کرتا ہے۔
ٹھنڈا دودھ پینا تیزابیت کا علاج ہے۔
دودھ وقتی طور پر سکون دیتا ہے، مگر کچھ دیر بعد معدہ مزید تیزاب بنا سکتا ہے۔ یہ عارضی آرام ہے، علاج نہیں۔
سینے کی ہر جلن تیزابیت ہی ہوتی ہے۔
دل کی تکلیف بھی سینے میں جلن یا دباؤ جیسی محسوس ہو سکتی ہے۔ چلنے پھرنے یا مشقت سے بڑھنے والا درد، پسینہ یا سانس پھولنا ہو تو فوراً ایمرجنسی جائیں۔
اس موضوع پر ڈاکٹر صاحب کی ویڈیوگیس اور تیزابیت — کیا آپ کو بھی پریشان کرتی ہے؟یوٹیوب پر دیکھیںاکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا تیزابیت کے ہر مریض کو اینڈوسکوپی کروانی پڑتی ہے؟
کیا تیزابیت سے کینسر ہو سکتا ہے؟
تیزابیت میں کون سی غذائیں بہتر ہیں؟
حمل میں تیزابیت ہو تو کیا کریں؟
ڈاکٹر شربت خان سے معائنے کے لیے وقت کیسے لیں؟
یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں اور ڈاکٹر کے معائنے کا متبادل نہیں۔ کوئی بھی دوا شروع یا بند کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔