مختصر جواب
قبض کا مطلب ہے کہ پاخانہ ہفتے میں تین بار سے کم آئے، سخت ہو، زور لگانا پڑے یا پیٹ صاف نہ ہونے کا احساس رہے۔ عموماً اس کی وجہ کم فائبر، کم پانی، کم چلنا پھرنا اور حاجت کو روکنا ہوتی ہے، اور عادات بدلنے سے اکثر آرام آ جاتا ہے۔ اگر ساتھ خون آئے، وزن کم ہو، خون کی کمی ہو، خاندان میں بڑی آنت کا کینسر رہا ہو، یا 45 سے 50 سال کی عمر کے بعد پہلی بار قبض شروع ہو، تو معائنہ اور اکثر کولونوسکوپی ضروری ہوتی ہے۔
قبض کسے کہتے ہیں؟
ہر شخص کا پاخانے کا معمول الگ ہوتا ہے۔ کسی کو دن میں دو بار حاجت ہوتی ہے اور کسی کو ہر دوسرے دن — دونوں نارمل ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر اسے قبض (Constipation) کہتے ہیں جب ہفتے میں تین بار سے کم پاخانہ آئے، پاخانہ سخت اور خشک ہو، بہت زور لگانا پڑے، یا فارغ ہونے کے بعد بھی پیٹ صاف نہ لگے۔ عام زبان میں لوگ کہتے ہیں «پیٹ صاف نہیں ہوتا»۔ یہ شکایت تین مہینے سے زیادہ رہے تو اسے پرانی قبض (Chronic Constipation) کہا جاتا ہے۔
قبض کیوں ہوتی ہے؟
عام وجوہات یہ ہیں:
- غذا میں فائبر کی کمی: میدہ، سفید ڈبل روٹی اور گوشت زیادہ؛ سبزیاں، دالیں اور پھل کم۔
- پانی کم پینا — خاص طور پر سردیوں میں، جب پیاس کم لگتی ہے۔
- کم چلنا پھرنا، سارا دن بیٹھے رہنا، یا سفر اور مصروفیت میں حاجت کو روکنا۔
- کچھ دوائیں، جیسے بعض درد کش، آئرن، کیلشیم، بلڈ پریشر اور ڈپریشن کی دوائیں — انہیں خود سے بند نہ کریں، ڈاکٹر کو بتائیں۔
- حمل، تھائیرائیڈ کی کمی (Hypothyroidism) اور شوگر میں بھی آنتوں کی حرکت سست ہو سکتی ہے۔
- آنتوں کی حساسیت (IBS) میں قبض کے ساتھ پیٹ درد اور اپھارہ رہتا ہے، جو پاخانے کے بعد کم ہو جاتا ہے۔
لمبی قبض کو نظرانداز کیوں نہ کریں؟
مسلسل زور لگانے سے بواسیر (Piles) اور مقعد میں چیر (Anal Fissure) بن سکتے ہیں۔ پھر درد کے ڈر سے انسان حاجت روکتا ہے اور قبض مزید بڑھ جاتی ہے — یوں ایک چکر بن جاتا ہے۔
بزرگوں اور بستر پر رہنے والے مریضوں میں کبھی سخت پاخانہ آنت کے آخری حصے میں جم جاتا ہے اور اس کے گرد پتلا پاخانہ رسنے لگتا ہے۔ گھر والے اسے دست سمجھ کر دست روکنے کی دوا دے دیتے ہیں، حالانکہ اصل مسئلہ قبض ہوتا ہے۔ ایسے مریض کو ڈاکٹر کو ضرور دکھائیں۔
جلاب اور پھکی کی روزانہ عادت — احتیاط کیوں؟
بہت سے لوگ برسوں تک ہر رات جلاب، پھکی یا چورن لیتے ہیں۔ کبھی کبھار قبض کشا دوا (Laxative) لینا نقصان دہ نہیں، مگر روزانہ اپنی مرضی سے تیز جلاب لینے سے مروڑ اور جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہو سکتی ہے، اور لگنے لگتا ہے کہ دوا کے بغیر پاخانہ آئے گا ہی نہیں۔
سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اصل وجہ — جیسے تھائیرائیڈ کی کمی، کسی دوا کا اثر یا آنت میں رکاوٹ — چھپی رہ جاتی ہے۔ لمبے عرصے تک دوا کی ضرورت ہو تو ڈاکٹر معائنے کے بعد مناسب دوا اور اس کی مدت طے کرتا ہے۔
قبض کب معمولی بات نہیں؟
زیادہ تر قبض کی وجہ سادہ ہوتی ہے۔ لیکن اگر 45 سے 50 سال کی عمر کے بعد پہلی بار پاخانے کی عادت بدلے، یا ساتھ خون، وزن میں کمی یا خون کی کمی ہو، تو بڑی آنت میں پولیپ (Polyp)، رسولی یا رکاوٹ بھی وجہ ہو سکتی ہے۔
ایسے میں کولونوسکوپی (Colonoscopy) سے بڑی آنت کو اندر سے دیکھا جاتا ہے، اور ضرورت ہو تو اسی دوران بائیوپسی لی جاتی ہے یا پولیپ نکال دیا جاتا ہے۔ یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں، معائنے کا متبادل نہیں۔
خطرے کی علامات — ان میں دیر نہ کریں
- پاخانے میں خون آئے تو جلد معائنہ کروائیں؛ پاخانہ کالا اور تارکول جیسا ہو تو فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
- بغیر کوشش کے وزن کم ہو رہا ہو۔
- 45 سے 50 سال کی عمر کے بعد پہلی بار قبض شروع ہو، یا پاخانے کی عادت کئی ہفتوں سے بدلی ہوئی ہو۔
- خون کی کمی ہو: کمزوری، سانس پھولنا، چہرہ اور ہتھیلیاں زرد۔
- ماں باپ یا بہن بھائیوں میں کسی کو بڑی آنت کا کینسر رہا ہو۔
- پیٹ پھول جائے، شدید درد ہو، الٹیاں آئیں اور گیس بھی خارج نہ ہو — یہ آنت کی رکاوٹ (Obstruction) ہو سکتی ہے؛ فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
خون کی الٹی، کالا پاخانہ، شدید درد، بے ہوشی یا الجھن کی صورت میں کلینک کے وقت کا انتظار نہ کریں — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
کلینک میں تشخیص اور علاج
- تفصیلی گفتگو: قبض کب سے ہے، غذا، دوائیں اور دوسری بیماریاں — اکثر وجہ یہیں سمجھ آ جاتی ہے۔
- پیٹ کا معائنہ، اور ضرورت ہو تو مقعد کا معائنہ — بواسیر یا چیر دیکھنے کے لیے۔
- سینٹر کی لیبارٹری میں خون کے ضروری ٹیسٹ؛ ضرورت ہو تو تھائیرائیڈ اور شوگر کی جانچ کا مشورہ۔
- ضرورت ہو تو کولونوسکوپی، ہلکی بے ہوشی (Sedation) کی سہولت کے ساتھ اسی سینٹر میں — اور ساتھ ہی بائیوپسی یا پولیپ نکالنا۔
- اندرونی بواسیر ہو تو بینڈنگ کی سہولت۔
- غذا، معمول اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا کا واضح منصوبہ۔
گھر پر کیا کریں
- فائبر آہستہ آہستہ بڑھائیں: چوکر والا آٹا، دالیں، سبزیاں اور پھل — جیسے امرود، ناشپاتی، آلو بخارا اور انجیر۔ ایک دم زیادہ فائبر سے اپھارہ ہو سکتا ہے۔
- اتنا پانی پئیں کہ پیشاب ہلکے رنگ کا رہے۔ گردے یا دل کے مریض ڈاکٹر کی بتائی ہوئی مقدار پر رہیں۔
- اسپغول کا چھلکا (Ispaghula) بھی فائبر ہی ہے؛ اسے ہمیشہ کافی پانی کے ساتھ لیں۔
- روز ایک ہی وقت پر، خاص طور پر ناشتے کے بعد، بیت الخلا جائیں — کھانے کے بعد آنتیں زیادہ حرکت کرتی ہیں۔ حاجت کو نہ روکیں۔
- کموڈ پر پاؤں کے نیچے چھوٹی چوکی رکھیں تاکہ گھٹنے اونچے رہیں؛ بیت الخلا میں موبائل لے کر دیر تک نہ بیٹھیں۔
- روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ پیدل چلیں۔
عام غلط فہمیاں
ہر روز پاخانہ نہ آئے تو جسم میں زہر پھیل جاتا ہے۔
ایک دو دن ناغہ ہونے سے جسم میں زہر پھیلنے یا «خون گندا» ہونے کا تصور درست نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ پاخانہ آرام سے، بغیر زور لگائے آئے۔
فائبر سے فوراً فرق نہ پڑے تو وہ بیکار ہے۔
فائبر کا پورا اثر آنے میں کچھ دن سے چند ہفتے لگ سکتے ہیں، اس لیے پانی کے ساتھ اسے مستقل مزاجی سے جاری رکھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا قبض سے بواسیر ہو جاتی ہے؟
کیا قبض کے ہر مریض کو کولونوسکوپی کروانی پڑتی ہے؟
حمل میں قبض ہو تو کیا کریں؟
بچوں کو قبض ہو تو کیا کریں؟
ڈاکٹر شربت خان سے معائنے کے لیے وقت کیسے لیں؟
یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں اور ڈاکٹر کے معائنے کا متبادل نہیں۔ کوئی بھی دوا شروع یا بند کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔