مختصر جواب
معدے کا زخم (السر) معدے یا چھوٹی آنت کے پہلے حصے کی جھلی کا زخم ہے، جو زیادہ تر ایچ پائلوری جراثیم یا درد کش گولیوں سے بنتا ہے اور عموماً پیٹ کے اوپری حصے میں جلن نما درد دیتا ہے، جو خالی پیٹ یا رات کو بڑھ سکتا ہے۔ تشخیص اینڈوسکوپی سے ہوتی ہے اور درست علاج سے زیادہ تر زخم چند ہفتوں میں بھر جاتے ہیں۔ خون کی الٹی، کالا پاخانہ یا اچانک شدید درد میں فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
السر کیا ہے؟
معدے کی اندرونی جھلی پر بلغم کی حفاظتی تہہ اسے اپنے ہی تیزاب سے بچاتی ہے۔ یہ حفاظت کمزور پڑ جائے تو تیزاب جھلی میں زخم بنا دیتا ہے۔ معدے کا زخم گیسٹرک السر (Gastric Ulcer) اور چھوٹی آنت کے پہلے حصے کا زخم ڈیوڈینل السر (Duodenal Ulcer) کہلاتا ہے؛ دونوں کو پیپٹک السر (Peptic Ulcer) کہتے ہیں۔ عام زبان میں اسے «معدے کا زخم» یا «السر» کہا جاتا ہے۔
السر کیوں بنتا ہے؟
- ایچ پائلوری (H. pylori): معدے کا یہ جراثیم جھلی میں سوزش پیدا کرتا ہے اور السر کی سب سے عام وجوہات میں سے ہے۔
- درد کش گولیاں اور انجکشن (NSAIDs): جوڑوں، کمر اور جسم کے درد کی بہت سی دوائیں معدے کی حفاظتی تہہ کمزور کرتی ہیں، خاص طور پر لمبے عرصے تک اور بڑی عمر میں۔ دل کے مریضوں کی خون پتلا کرنے والی گولی بھی خطرہ بڑھاتی ہے، اور سٹیرائیڈز ساتھ ہوں تو خطرہ اور بڑھ جاتا ہے۔
- سگریٹ نوشی: السر کا خطرہ بڑھاتی ہے اور زخم بھرنے کا عمل سست کرتی ہے۔
- کم عام وجوہات: بہت شدید بیماری کی حالت، بعض نایاب بیماریاں جن میں معدہ بہت زیادہ تیزاب بناتا ہے، اور کبھی کبھار رسولی۔
علامات کیسے پہچانیں؟
- پیٹ کے اوپری بیچ کے حصے میں جلن یا کاٹنے جیسا درد۔
- چھوٹی آنت کے السر میں درد اکثر خالی پیٹ یا آدھی رات کو اٹھتا ہے اور کچھ کھانے سے وقتی طور پر کم ہو جاتا ہے۔
- معدے کے السر میں درد کبھی کھانے کے بعد بڑھتا ہے؛ ساتھ متلی، اپھارہ، بھوک کم لگنا یا وزن گرنا ہو سکتا ہے۔
- بعض لوگوں کو، خاص طور پر بزرگوں اور درد کش گولیاں لینے والوں کو، درد نہیں ہوتا اور پہلی علامت خون بہنا ہی ہوتی ہے۔
پیچیدگیاں — جن میں دیر نہیں کرنی
ان میں سے پہلی دو پیچیدگیوں میں فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں:
- خون بہنا: خون کی الٹی، کافی کے رنگ جیسی الٹی، یا کالا تارکول جیسا پاخانہ، ساتھ چکر یا کمزوری — یہ سب سے عام پیچیدگی ہے۔
- زخم کا پھٹ جانا (Perforation): اچانک، بہت شدید درد جو پورے پیٹ میں پھیل جائے اور پیٹ تختے کی طرح سخت ہو جائے۔
- راستہ تنگ ہو جانا: بار بار کے زخم کے نشان معدے کا راستہ تنگ کر دیتے ہیں، جس سے بار بار الٹیاں ہوتی ہیں۔
- ہسپتال میں خون بہنے والے السر کو اینڈوسکوپی کے ذریعے خون روکنے کے طریقوں سے قابو کیا جاتا ہے؛ پھٹے ہوئے زخم کا علاج عموماً سرجن کرتے ہیں۔
تشخیص، علاج اور زخم کا بھرنا
السر کی پکی تشخیص اینڈوسکوپی سے ہوتی ہے، جس میں کیمرے سے معدہ اور چھوٹی آنت کا پہلا حصہ براہِ راست دیکھا جاتا ہے۔ اسی دوران ایچ پائلوری کی جانچ ہوتی ہے، اور معدے کے زخم سے اکثر بائیوپسی لی جاتی ہے تاکہ کسی اور بیماری کا شبہ دور ہو۔
علاج میں تیزابیت کم کرنے والی دوا عموماً چند ہفتے دی جاتی ہے، اور ایچ پائلوری ہو تو اس کا مکمل کورس۔ اگر زخم درد کش گولیوں سے بنا ہو تو ڈاکٹر طے کرتے ہیں کہ انہیں بند کرنا ہے یا محفوظ متبادل دینا ہے؛ دل کے لیے دی گئی خون پتلا کرنے کی دوا خود سے بند نہ کریں۔
خطرے کی علامات — ان میں دیر نہ کریں
- خون کی الٹی یا کافی کے رنگ جیسی الٹی — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
- کالا تارکول جیسا پاخانہ، خاص طور پر چکر، کمزوری یا بے ہوشی کے ساتھ — فوراً ایمرجنسی جائیں۔
- اچانک بہت شدید درد جو پورے پیٹ میں پھیل جائے اور پیٹ سخت ہو جائے — فوراً ایمرجنسی جائیں۔
- سینے یا پیٹ کے اوپری حصے میں درد کے ساتھ پسینہ، سانس پھولنا، یا درد بازو اور جبڑے کی طرف جائے — یہ دل کی تکلیف ہو سکتی ہے، فوراً ایمرجنسی جائیں۔
- بار بار الٹیاں، وزن کم ہونا یا خون کی کمی۔
- درد کش یا خون پتلا کرنے والی دوائیں لیتے ہوئے پیٹ میں جلن یا درد — جلد معائنہ کروائیں۔
خون کی الٹی، کالا پاخانہ، شدید درد، بے ہوشی یا الجھن کی صورت میں کلینک کے وقت کا انتظار نہ کریں — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
کلینک میں تشخیص اور علاج
- تفصیلی گفتگو: درد کا وقت اور کھانے سے تعلق، اور درد کش یا خون پتلا کرنے والی تمام دواؤں کا جائزہ۔
- اسی سینٹر میں اینڈوسکوپی (ہلکی بے ہوشی، اسی دن گھر واپسی)، بائیوپسی اور ایچ پائلوری کی جانچ — ڈاکٹر شربت خان کو اینڈوسکوپی کا 23 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے۔
- سینٹر کی لیبارٹری میں خون کی کمی سمیت ضروری ٹیسٹ۔
- دوا کی مدت، ایچ پائلوری کے علاج اور احتیاط کا واضح منصوبہ۔
- ضرورت ہو تو چند ہفتے بعد دوبارہ اینڈوسکوپی، تاکہ زخم بھرنے کی تصدیق ہو سکے۔
گھر پر کیا کریں
- دوا پوری مدت تک لیں — درد چند دنوں میں چلا جاتا ہے مگر زخم بھرنے میں ہفتے لگتے ہیں۔
- خود سے درد کش گولیاں یا انجکشن نہ لیں؛ جوڑوں یا کمر کے درد کے لیے ڈاکٹر سے محفوظ متبادل پوچھیں۔
- جب بھی کوئی نئی دوا لیں، ڈاکٹر کو بتائیں کہ آپ کو السر رہ چکا ہے۔
- سگریٹ اور نسوار چھوڑ دیں۔
- وقت پر، سادہ اور متوازن کھانا کھائیں اور جس چیز سے جلن بڑھے اسے کم کر دیں؛ عموماً سخت پرہیز کی ضرورت نہیں ہوتی۔
عام غلط فہمیاں
السر مرچ مسالوں اور ذہنی پریشانی سے ہوتا ہے۔
السر کی دو بڑی وجوہات ایچ پائلوری اور درد کش گولیاں ہیں۔ مرچ اور ذہنی دباؤ تکلیف بڑھا سکتے ہیں مگر عموماً اصل وجہ نہیں ہوتے، اس لیے صرف پرہیز سے زخم ٹھیک نہیں ہوتا۔
السر ایک بار ہو جائے تو ساری عمر رہتا ہے۔
درست علاج سے زیادہ تر زخم بھر جاتے ہیں۔ ایچ پائلوری ختم ہو جائے اور غیر ضروری درد کش گولیوں سے پرہیز ہو تو دوبارہ السر بننے کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا السر سے کینسر بنتا ہے؟
کیا السر کا علاج آپریشن سے ہوتا ہے؟
کیا السر میں روزہ رکھ سکتے ہیں؟
السر میں کون سا کھانا بہتر ہے؟
ڈاکٹر شربت خان سے معائنے کے لیے وقت کیسے لیں؟
یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں اور ڈاکٹر کے معائنے کا متبادل نہیں۔ کوئی بھی دوا شروع یا بند کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔