ڈاکٹر شربت خانگیسٹرو اینڈ لیور سینٹر، کوئٹہ
علامات اور امراض

آئی بی ایس: آنتوں کی حساسیت اور معدہ و دماغ کا تعلق

Irritable bowel syndrome (IBS) & the gut–brain link

پروفیسر ڈاکٹر شربت خان مندوخیل کے گیسٹرو اینڈ لیور سینٹر، کوئٹہ کی جانب سےتازہ کاری: اکتوبر 2026

مختصر جواب

آئی بی ایس (IBS) آنتوں کی ایک عام اور حقیقی بیماری ہے جس میں آنتیں عام سے زیادہ حساس ہو جاتی ہیں۔ اس میں پیٹ میں مروڑ یا درد ہوتا ہے جو پاخانے کے بعد کم ہو جاتا ہے، ساتھ اپھارہ اور کبھی قبض کبھی دست رہتے ہیں۔ یہ آنتوں کو نقصان نہیں پہنچاتی اور کینسر میں نہیں بدلتی، مگر زندگی مشکل ضرور بنا دیتی ہے۔ پاخانے میں خون، وزن کم ہونا یا رات کو نیند سے جگانے والی تکلیف آئی بی ایس کی علامات نہیں — ایسی صورت میں معائنہ ضروری ہے۔

آئی بی ایس کیا ہے؟

آئی بی ایس کا پورا نام اریٹیبل باؤل سنڈروم (Irritable Bowel Syndrome) ہے۔ اس میں ٹیسٹوں میں آنتوں کی بناوٹ بالکل ٹھیک نظر آتی ہے، لیکن ان کے کام کرنے کا انداز بگڑ جاتا ہے: آنتیں کبھی بہت تیز چلتی ہیں، کبھی سست پڑ جاتی ہیں، اور عام مقدار کی گیس یا کھانا بھی تکلیف دینے لگتا ہے۔

بہت سے مریض برسوں «پیٹ خراب رہنے» کی شکایت لیے ایک معالج سے دوسرے کے پاس جاتے رہتے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ درست تشخیص کے بعد زیادہ تر لوگ اپنی علامات پر کافی حد تک قابو پا لیتے ہیں۔

عام علامات

  • پیٹ میں درد یا مروڑ جو پاخانہ کرنے کے بعد کم ہو جائے۔
  • کبھی قبض، کبھی دست، یا دونوں باری باری۔
  • اپھارہ اور پیٹ پھولا ہوا محسوس ہونا، خاص طور پر دن ڈھلتے۔
  • پاخانے کے ساتھ آؤں (لیس دار مادہ) آنا۔
  • پاخانے کے بعد بھی یوں لگنا کہ پیٹ پوری طرح صاف نہیں ہوا۔
  • صبح اٹھتے ہی یا کھانے کے فوراً بعد باتھ روم جانے کی جلدی۔

معدہ اور دماغ کا تعلق (Gut–Brain Axis)

ہماری آنتوں اور دماغ کے درمیان اعصاب اور ہارمونز کے ذریعے مسلسل رابطہ رہتا ہے۔ اسی لیے امتحان، پریشانی یا غم کے وقت پیٹ میں گڑبڑ ہونے لگتی ہے۔ آئی بی ایس میں یہ رابطہ زیادہ حساس ہو جاتا ہے: ذہنی دباؤ آنتوں کو بے چین کرتا ہے، اور پیٹ کی تکلیف پریشانی بڑھاتی ہے — یوں ایک چکر بن جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ تکلیف «صرف وہم» ہے۔ درد حقیقی ہے؛ بس اس کے علاج میں جسم اور ذہن دونوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔

آئی بی ایس کو کیا چیزیں بڑھاتی ہیں؟

  • ذہنی دباؤ، بے چینی اور نیند کی کمی۔
  • بے وقت کھانا، جلدی جلدی کھانا یا کھانا چھوڑ دینا۔
  • زیادہ چکنائی والی، تلی ہوئی اور بہت مرچ والی غذائیں۔
  • بعض لوگوں میں دودھ، گوبھی، چنے، لوبیا اور پیاز جیسی گیس بنانے والی چیزیں۔
  • چائے، کافی اور کولڈ ڈرنکس کا زیادہ استعمال۔
  • پیٹ کے کسی انفیکشن (گیسٹرو) کے بعد بھی کچھ لوگوں میں آئی بی ایس شروع ہو جاتا ہے۔

تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

آئی بی ایس کی تشخیص زیادہ تر تفصیلی بات چیت اور معائنے سے ہوتی ہے۔ ساتھ میں ضرورت کے مطابق خون کے ٹیسٹ (جیسے خون کی کمی اور سوزش کی جانچ) اور بعض اوقات پاخانے کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ ملتی جلتی دوسری بیماریوں کو خارج کیا جا سکے۔ خطرے کی کوئی علامت ہو یا عمر پچاس سال کے قریب یا زیادہ ہو تو کولونوسکوپی تجویز کی جا سکتی ہے۔

خطرے کی علامات — ان میں دیر نہ کریں

  • پاخانے میں خون آنا — جلد معائنہ کروائیں؛ پاخانہ کالا اور تارکول جیسا ہو یا خون زیادہ آئے تو فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
  • بغیر کوشش کے وزن کم ہونا۔
  • رات کو نیند سے جگا دینے والا درد یا دست۔
  • خون کی کمی — کمزوری، سانس پھولنا یا چہرہ زرد پڑ جانا۔
  • بخار کے ساتھ مسلسل دست۔
  • پچاس سال کے بعد پہلی بار پاخانے کی عادت میں مستقل تبدیلی۔
  • خاندان میں آنتوں کے کینسر یا آنتوں کی سوزش کی بیماری (IBD) کی تاریخ۔

خون کی الٹی، کالا پاخانہ، شدید درد، بے ہوشی یا الجھن کی صورت میں کلینک کے وقت کا انتظار نہ کریں — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔

کلینک میں تشخیص اور علاج

  • تفصیلی گفتگو: علامات کا انداز، کھانے اور ذہنی دباؤ سے ان کا تعلق، اور اب تک کا علاج۔
  • سینٹر کی لیبارٹری میں خون کے ضروری ٹیسٹ، اور ضرورت ہو تو پاخانے کے ٹیسٹ کا مشورہ۔
  • ضرورت ہو تو پیٹ کا الٹراساؤنڈ۔
  • خطرے کی علامات ہوں تو اسی سینٹر میں کولونوسکوپی اور بائیوپسی۔
  • علامات کے مطابق دوا (مروڑ، قبض یا دست کے لیے) اور غذا کا ذاتی منصوبہ۔

گھر پر کیا کریں

  • روزانہ ایک ہی وقت پر، آرام سے اور اچھی طرح چبا کر کھائیں۔
  • ایک ڈائری میں لکھیں کہ کون سی غذا کے بعد تکلیف بڑھتی ہے، اور وہ چیز کم کر کے دیکھیں۔
  • دن بھر مناسب پانی پئیں۔
  • روزانہ کم از کم تیس منٹ پیدل چلیں — اس سے آنتیں بھی بہتر چلتی ہیں اور ذہنی دباؤ بھی کم ہوتا ہے۔
  • نیند پوری کریں، اور دباؤ کم کرنے کے لیے گہری سانس، نماز، چہل قدمی یا جو طریقہ آپ کو سکون دے، اپنائیں۔
  • قبض والے مریض ریشہ (فائبر) آہستہ آہستہ بڑھائیں؛ اچانک بہت زیادہ ریشہ اپھارہ بڑھا سکتا ہے۔

عام غلط فہمیاں

غلط فہمی

آئی بی ایس آخرکار کینسر بن جاتا ہے۔

حقیقت

آئی بی ایس آنتوں کو کوئی مستقل نقصان نہیں پہنچاتا اور کینسر میں نہیں بدلتا۔ البتہ خطرے کی علامات ہوں تو دوسری بیماریوں کو خارج کرنے کے لیے ٹیسٹ ضروری ہیں۔

غلط فہمی

یہ صرف وہم ہے۔

حقیقت

آئی بی ایس کا درد حقیقی ہے۔ ذہنی دباؤ اسے بڑھاتا ہے، لیکن یہ خیالی بیماری نہیں۔

معدہ اور دماغ کا رابطہ (گٹ برین ایکسس)اس موضوع پر ڈاکٹر صاحب کی ویڈیومعدہ اور دماغ کا رابطہ (گٹ برین ایکسس)یوٹیوب پر دیکھیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا آئی بی ایس مکمل ٹھیک ہو جاتا ہے؟
آئی بی ایس عموماً لمبے عرصے تک ساتھ رہنے والی کیفیت ہے جس میں علامات کم زیادہ ہوتی رہتی ہیں۔ درست غذا، باقاعدہ معمول، ذہنی دباؤ پر قابو اور ضرورت کے مطابق دوا سے زیادہ تر مریض معمول کی زندگی گزارتے ہیں، اور بہت سوں کی علامات وقت کے ساتھ کافی کم ہو جاتی ہیں۔
کیا آئی بی ایس کے لیے کولونوسکوپی ضروری ہے؟
ہر مریض کو نہیں۔ عمر کم ہو اور خطرے کی کوئی علامت نہ ہو تو اکثر معائنہ اور خون کے ٹیسٹ کافی ہوتے ہیں۔ پاخانے میں خون، وزن کم ہونا، خون کی کمی یا پچاس سال کے بعد نئی شکایت ہو تو کولونوسکوپی کی جاتی ہے۔
آئی بی ایس میں کیا کھانا چاہیے؟
کوئی ایک غذا سب کے لیے نہیں۔ عام طور پر سادہ، گھر کا بنا کم چکنائی والا کھانا بہتر رہتا ہے۔ جن چیزوں سے آپ کو گیس یا مروڑ ہو — مثلاً دودھ، چنے یا گوبھی — انہیں کچھ عرصہ کم کر کے دیکھیں کہ فرق پڑتا ہے یا نہیں۔
کیا پریشانی سے پیٹ خراب ہو سکتا ہے؟
جی ہاں۔ معدے اور دماغ کے درمیان گہرا رابطہ ہے، اسی لیے پریشانی یا گھبراہٹ میں مروڑ، دست یا اپھارہ ہو سکتا ہے۔ آئی بی ایس کے علاج میں ذہنی سکون کا خیال رکھنا اتنا ہی اہم ہے جتنا غذا کا۔
معائنے کے لیے وقت کیسے لیں؟
0345 1014910 پر کال یا واٹس ایپ کریں۔ کلینک کا استقبالیہ دن اور وقت طے کر کے بکنگ نمبر دیتا ہے۔ کلینک پیر سے ہفتہ صبح 10 سے 12:30 اور شام 4:30 سے 9:30 بجے تک کھلا رہتا ہے؛ اتوار کو بند۔

یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں اور ڈاکٹر کے معائنے کا متبادل نہیں۔ کوئی بھی دوا شروع یا بند کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔