مختصر جواب
ہیپاٹائٹس بی اور سی وائرس سے ہونے والی جگر کی بیماریاں ہیں جو زیادہ تر خون کے ذریعے پھیلتی ہیں اور اکثر برسوں تک کوئی علامت نہیں دیتیں، اس لیے ان کا پتہ خون کے ٹیسٹ سے ہی چلتا ہے۔ ہیپاٹائٹس سی زیادہ تر مریضوں میں تقریباً تین مہینے کی گولیوں سے ختم ہو جاتا ہے، جبکہ ہیپاٹائٹس بی کو عموماً لمبے عرصے کی دوا اور باقاعدہ فالو اپ سے قابو میں رکھا جاتا ہے۔ بی سے بچاؤ کی ویکسین موجود ہے، سی کی نہیں۔
اسے «کالا یرقان» کیوں کہتے ہیں؟
عام زبان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کو «کالا یرقان» یا «کالا پیلیا» کہا جاتا ہے، حالانکہ اکثر مریضوں کی آنکھیں کبھی پیلی ہوتی ہی نہیں۔ یہ وائرس برسوں خاموشی سے جگر کو نقصان پہنچاتا ہے اور مریض خود کو ٹھیک محسوس کرتا ہے۔ اکثر بیماری اتفاقاً پکڑی جاتی ہے، جیسے آپریشن سے پہلے، خون دیتے وقت، حمل کے ٹیسٹوں میں یا بیرونِ ملک ملازمت کے میڈیکل میں۔
یہ کیسے پھیلتا ہے — اور کیسے نہیں؟
یہ وائرس ساتھ کھانا کھانے، ایک برتن استعمال کرنے یا گلے ملنے سے نہیں پھیلتا، اس لیے مریض کو الگ برتن دینے کی ضرورت نہیں۔ یہ متاثرہ خون کی معمولی سی مقدار سے بھی منتقل ہو جاتا ہے:
- ایک ہی سرنج یا ڈرپ کا دوبارہ استعمال، اور غیر ضروری انجکشن۔
- بغیر جانچ کے خون لگوانا۔
- حجام کا پرانا بلیڈ، یا کسی اور کا ریزر، ٹوتھ برش اور نیل کٹر۔
- دانتوں کے علاج، آپریشن یا ناک کان چھدوانے میں غیر جراثیم کش اوزار۔
- ہیپاٹائٹس بی پیدائش کے وقت ماں سے بچے کو، اور میاں بیوی میں ازدواجی تعلق سے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔
ٹیسٹ کس کو اور کون سا کروانا چاہیے؟
چونکہ یہ بیماریاں پاکستان میں عام اور خاموش ہیں، ہر بالغ کو زندگی میں کم از کم ایک بار ہیپاٹائٹس بی اور سی کا ٹیسٹ کروانا چاہیے؛ حاملہ خواتین اور مریضوں کے گھر والوں کو ضرور۔
بی کے لیے ایچ بی ایس اینٹی جن (HBsAg) اور سی کے لیے اینٹی ایچ سی وی (Anti-HCV) ٹیسٹ ہوتا ہے۔ سی کا ٹیسٹ مثبت ہو تو پی سی آر (PCR) سے دیکھا جاتا ہے کہ وائرس اس وقت موجود ہے یا نہیں، کیونکہ کچھ لوگوں میں وائرس خود ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ سٹرپ والا فوری ٹیسٹ صرف ابتدائی جانچ ہے۔
ہیپاٹائٹس سی: اب زیادہ تر مریض ٹھیک ہو جاتے ہیں
اب ہیپاٹائٹس سی کے پرانے تکلیف دہ انجکشنوں کی جگہ وائرس کے خلاف جدید گولیاں (Antivirals) ہیں، جو عام طور پر تقریباً تین مہینے کھانی ہوتی ہیں۔ زیادہ تر مریضوں میں ان سے وائرس ختم ہو جاتا ہے، اور کورس کے کچھ عرصے بعد پی سی آر سے اس کی تصدیق کی جاتی ہے۔ گولیاں بغیر ناغہ لیں اور اپنی باقی دواؤں کے بارے میں ڈاکٹر کو بتائیں۔ یاد رکھیں، ٹھیک ہونے کے بعد بھی وائرس دوبارہ لگ سکتا ہے۔
ہیپاٹائٹس بی: قابو، فالو اپ اور ویکسین
ہیپاٹائٹس بی کے ہر مریض کو فوراً دوا نہیں دی جاتی؛ وائرس کی مقدار (HBV DNA)، ہیپاٹائٹس ڈی کی جانچ (Anti-HDV)، جگر کے ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ دیکھ کر فیصلہ ہوتا ہے۔ جنہیں دوا چاہیے، ان کا علاج عموماً لمبے عرصے تک گولیوں سے ہوتا ہے جو وائرس کو دبا کر جگر کو بچاتی ہیں۔ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا بند کرنے سے بیماری بھڑک سکتی ہے، اور جنہیں ابھی دوا نہیں چاہیے ان کا بھی باقاعدہ فالو اپ ضروری ہے۔
بی سے بچاؤ کی مؤثر ویکسین موجود ہے: مریض کے شریکِ حیات، بچوں اور گھر والوں کا ٹیسٹ کروائیں، اور جو منفی ہوں وہ ویکسین کا پورا کورس (عام طور پر تین خوراکیں) مکمل کریں۔ ہیپاٹائٹس سی کی کوئی ویکسین نہیں۔
خاموش نقصان اور جگر کے کینسر کی نگرانی
بے علاج ہیپاٹائٹس بی یا سی برسوں میں جگر کی سختی، سروسس اور بعض مریضوں میں جگر کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لیے سروسس والے اور ہیپاٹائٹس بی کے بعض مریضوں کو عموماً ہر چھ ماہ بعد الٹراساؤنڈ کا مشورہ دیا جاتا ہے، تاکہ کینسر ہو تو ابتدائی مرحلے میں پکڑا جائے۔ سی کا وائرس ختم ہونے کے بعد بھی، اگر سروسس ہو چکا ہو تو یہ نگرانی جاری رہتی ہے۔
خطرے کی علامات — ان میں دیر نہ کریں
- آنکھیں یا جلد پیلی ہو جائیں اور پیشاب گہرا آنے لگے۔
- خون کی الٹی یا کالا، تارکول جیسا پاخانہ — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
- غنودگی، الجھن یا رویے میں تبدیلی — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
- یرقان کے ساتھ تیز بخار — فوراً ایمرجنسی جائیں۔
- پیٹ پھولنے لگے یا ٹانگوں پر سوجن آ جائے۔
- شدید کمزوری، مسلسل متلی یا بھوک کا ختم ہو جانا، خاص طور پر ہیپاٹائٹس بی کی دوا چھوٹ جانے کے بعد۔
خون کی الٹی، کالا پاخانہ، شدید درد، بے ہوشی یا الجھن کی صورت میں کلینک کے وقت کا انتظار نہ کریں — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
کلینک میں تشخیص اور علاج
- پروفیسر ڈاکٹر شربت خان مندوخیل وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے ہیپاٹائٹس کنٹرول اور علاج کے پروگرام کے صوبائی فوکل پرسن رہ چکے ہیں۔
- کوئٹہ میں سینٹر کی لیبارٹری میں ہیپاٹائٹس اور جگر کے ٹیسٹ، اور اسی سینٹر میں الٹراساؤنڈ؛ پی سی آر جیسے مزید ٹیسٹ ضرورت کے مطابق۔
- ہیپاٹائٹس سی کا مکمل کورس اور وائرس ختم ہونے کی تصدیق؛ ہیپاٹائٹس بی میں دوا کا فیصلہ اور لمبا فالو اپ۔
- سروسس ہو تو اینڈوسکوپی سے غذائی نالی کی رگوں کی جانچ اور ضرورت ہو تو بینڈنگ۔
- گھر والوں کے ٹیسٹ اور ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین کے بارے میں رہنمائی۔
گھر پر کیا کریں
- اپنا ریزر، ٹوتھ برش اور نیل کٹر الگ رکھیں، اور زخم ڈھانپ کر رکھیں۔
- حجام سے ہمیشہ نیا بلیڈ لگوائیں، اور انجکشن صرف ضرورت پر نئی سرنج سے لگوائیں۔
- خون کا عطیہ نہ دیں، اور اپنے ڈاکٹر یا ڈینٹسٹ کو اپنی بیماری کا بتائیں۔
- دیسی دوائیں، جڑی بوٹیاں اور درد کی گولیاں ڈاکٹر سے پوچھے بغیر نہ لیں، اور شراب سے مکمل پرہیز کریں۔
- وزن اور شوگر قابو میں رکھیں؛ جگر پر چربی ہیپاٹائٹس کا نقصان بڑھا دیتی ہے۔
- طبیعت ٹھیک ہو تب بھی فالو اپ اور ٹیسٹ نہ چھوڑیں۔
عام غلط فہمیاں
ہیپاٹائٹس بی کا ٹیکہ لگوانے سے مریض بھی ٹھیک ہو جاتا ہے۔
ویکسین صرف انہیں بچاتی ہے جنہیں ابھی وائرس نہیں لگا؛ پہلے سے متاثر شخص کا علاج ویکسین سے نہیں ہوتا۔ اسی لیے ویکسین سے پہلے ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
اس موضوع پر ڈاکٹر صاحب کی ویڈیویرقان سے جگر کو ہونے والے نقصان کے مراحلیوٹیوب پر دیکھیںاکثر پوچھے جانے والے سوالات
علاج کے بعد بھی ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ «پازیٹو» کیوں آتا ہے؟
کیا ہیپاٹائٹس بی یا سی کا مریض شادی کر سکتا ہے؟
حاملہ ماں کو ہیپاٹائٹس بی ہو تو بچے کو کیسے بچایا جائے؟
کیا ہیپاٹائٹس بی مکمل ختم ہو سکتا ہے؟
کیا دیسی دوائی یا قہوے سے کالا یرقان ختم ہو سکتا ہے؟
ڈاکٹر شربت خان سے معائنے کے لیے وقت کیسے لیں؟
یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں اور ڈاکٹر کے معائنے کا متبادل نہیں۔ کوئی بھی دوا شروع یا بند کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔