مختصر جواب
ایچ پائلوری (H. pylori) معدے میں رہنے والا ایک جراثیم ہے جو پاکستان میں بہت عام ہے۔ زیادہ تر لوگوں کو یہ تکلیف نہیں دیتا، مگر بعض میں معدے کی سوزش اور السر کا سبب بنتا ہے، اور بہت کم لوگوں میں برسوں بعد معدے کے کینسر کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ تشخیص پاخانے یا سانس کے ٹیسٹ یا بائیوپسی سے ہوتی ہے، اور علاج کئی دواؤں کا مکمل کورس ہے جس کی کامیابی دوبارہ ٹیسٹ سے جانچی جاتی ہے۔
ایچ پائلوری کیا ہے اور کیسے پھیلتا ہے؟
ایچ پائلوری (Helicobacter pylori) ایک جراثیم ہے جو معدے کی اندرونی جھلی پر بلغم کی تہہ میں رہتا ہے۔ عام جراثیم معدے کے تیزاب میں زندہ نہیں رہتے، مگر یہ اپنے گرد حفاظتی ماحول بنا کر برسوں رہتا ہے۔ عام زبان میں لوگ اسے «معدے کا جراثیم» یا «پائلوری» کہتے ہیں۔
یہ زیادہ تر بچپن میں آلودہ پانی، کھانے اور گھر کے افراد کے قریبی میل جول سے لگتا ہے۔ اسی لیے پاکستان میں بہت سے بالغ افراد میں موجود ہوتا ہے، اور اکثر کو اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔
یہ جراثیم کیا نقصان کر سکتا ہے؟
زیادہ تر لوگ ساری عمر اس کے ساتھ بغیر تکلیف کے رہتے ہیں؛ بعض میں یہ مسائل پیدا کرتا ہے:
- معدے کی سوزش (Gastritis): پیٹ کے اوپری حصے میں جلن، بھاری پن، ڈکار، متلی یا بھوک کم لگنا۔
- معدے یا چھوٹی آنت کے پہلے حصے کا زخم (السر)۔
- بعض مریضوں میں آئرن کی کمی سے خون کی کمی۔
- بہت کم لوگوں میں، کئی برس بعد، معدے کا کینسر؛ خاندان میں یہ بیماری ہو تو ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔
کون سا ٹیسٹ درست ہے؟
- پاخانے کا ٹیسٹ (Stool Antigen) یا سانس کا ٹیسٹ (Urea Breath Test): یہ موجودہ انفیکشن بتاتے ہیں اور علاج کے بعد تصدیق کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔
- اینڈوسکوپی کے دوران بائیوپسی: جب عمر، خطرے کی علامات یا پرانی تکلیف کی وجہ سے معدہ دیکھنا ضروری ہو۔
- خون کا ٹیسٹ (Antibody): صرف یہ بتاتا ہے کہ کبھی جراثیم سے واسطہ پڑا تھا، اور علاج کے بعد بھی برسوں مثبت رہ سکتا ہے — اس لیے علاج کی کامیابی جانچنے کے لیے موزوں نہیں۔
- تیزابیت کم کرنے والی بعض دوائیں اور اینٹی بائیوٹکس ٹیسٹ کو غلط طور پر منفی کر سکتی ہیں؛ ٹیسٹ سے پہلے کون سی دوا کب روکنی ہے، یہ ڈاکٹر بتائیں گے۔
علاج اور اس کی تصدیق
علاج میں عموماً دو یا زیادہ اینٹی بائیوٹکس کے ساتھ تیزابیت کم کرنے والی دوا دی جاتی ہے، اور یہ کورس عام طور پر 10 سے 14 دن کا ہوتا ہے۔ مجموعہ ڈاکٹر آپ کی الرجی اور پچھلے علاج کو دیکھ کر طے کرتے ہیں؛ پینسلین یا کسی دوا سے الرجی ہو، یا آپ حاملہ ہوں، تو ضرور بتائیں۔
علاج ختم ہونے کے کم از کم چار ہفتے بعد پاخانے یا سانس کے ٹیسٹ سے تصدیق کی جاتی ہے۔ اگر جراثیم پھر بھی موجود ہو تو وہی کورس دہرانے کے بجائے ڈاکٹر دواؤں کا مختلف مجموعہ تجویز کرتے ہیں۔
دوا کے باوجود جراثیم ختم کیوں نہیں ہوتا؟
- کورس ادھورا چھوڑ دینا — چند دن میں آرام آیا اور دوائیں بند کر دیں، یا خوراکیں چھوٹتی رہیں۔
- جراثیم کی مزاحمت — پاکستان میں یہ جراثیم بعض اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کر چکا ہے، اس لیے غلط مجموعہ یا کم دنوں کا کورس کام نہیں کرتا۔
- غلط وقت پر یا غلط ٹیسٹ — تیزابیت کی دوا کے دوران منفی آنے والا ٹیسٹ، یا خون کا ٹیسٹ جو علاج کے بعد بھی مثبت رہتا ہے۔
- دوبارہ انفیکشن بھی ممکن ہے، مگر زیادہ تر صورتوں میں جراثیم پہلی بار مکمل ختم ہی نہیں ہوا ہوتا۔
خطرے کی علامات — ان میں دیر نہ کریں
- خون کی الٹی، کافی کے رنگ جیسی الٹی، یا کالا تارکول جیسا پاخانہ چکر یا کمزوری کے ساتھ — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
- اچانک شدید درد جو پورے پیٹ میں پھیل جائے اور پیٹ سخت ہو جائے — فوراً ایمرجنسی جائیں۔
- سینے یا پیٹ کے اوپری حصے میں جلن یا دباؤ کے ساتھ پسینہ، سانس پھولنا، یا درد بازو اور جبڑے کی طرف جائے — یہ دل کی تکلیف ہو سکتی ہے، فوراً ایمرجنسی جائیں۔
- دوا کے دوران جسم پر دانے، چہرے پر سوجن یا سانس میں دقت — یہ الرجی ہو سکتی ہے، فوراً ایمرجنسی جائیں۔
- بغیر کوشش وزن کم ہونا، نگلنے میں دقت، بار بار الٹیاں یا خون کی کمی۔
- خاندان میں معدے کا کینسر ہو، یا پچاس سال کی عمر کے بعد معدے کی تکلیف نئی شروع ہوئی ہو۔
خون کی الٹی، کالا پاخانہ، شدید درد، بے ہوشی یا الجھن کی صورت میں کلینک کے وقت کا انتظار نہ کریں — فوراً قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی جائیں۔
کلینک میں تشخیص اور علاج
- پروفیسر ڈاکٹر شربت خان مندوخیل (سابق سربراہ شعبۂ امراضِ معدہ و جگر، بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال) سے مشاورت اور پچھلے کورسز کا جائزہ۔
- ضرورت ہو تو اسی سینٹر میں اینڈوسکوپی — ہلکی بے ہوشی کے ساتھ، اسی دن گھر واپسی — اور بائیوپسی سے ایچ پائلوری کی جانچ۔
- پاخانے یا سانس کا ٹیسٹ ضرورت کے مطابق تجویز کیا جاتا ہے، اور ٹیسٹ سے پہلے دواؤں کی ہدایت دی جاتی ہے۔
- پچھلے علاج اور الرجی کو دیکھ کر دواؤں کا مناسب مجموعہ اور پوری مدت۔
- علاج کے بعد مناسب وقت پر دوبارہ ٹیسٹ اور فالو اپ۔
گھر پر کیا کریں
- دوائیں پوری مدت تک اور وقت پر لیں، آرام آنے پر بھی کورس نہ چھوڑیں؛ یاد رکھنے کے لیے موبائل پر الارم لگا لیں۔
- دواؤں سے متلی یا منہ کڑوا ہو تو دوا خود سے نہ چھوڑیں، ڈاکٹر سے پوچھیں۔
- سگریٹ اور نسوار سے پرہیز کریں — سگریٹ نوشی علاج کی کامیابی کم کر سکتی ہے۔
- پینے کا پانی ابال کر یا فلٹر کر کے پیئیں، اور کھانے سے پہلے اور بیت الخلا کے بعد صابن سے ہاتھ دھوئیں۔
- خود سے درد کش گولیاں نہ کھائیں — ایچ پائلوری کے ساتھ مل کر یہ السر کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔
عام غلط فہمیاں
ایچ پائلوری کا مطلب ہے کہ کینسر ہو جائے گا۔
زیادہ تر متاثرہ لوگوں کو کبھی کینسر نہیں ہوتا۔ خطرہ بہت کم لوگوں میں اور کئی برس بعد ہوتا ہے، اور جراثیم کا علاج اسے مزید کم کرتا ہے۔
آرام آ گیا تو جراثیم بھی ختم ہو گیا۔
علامات اکثر جراثیم ختم ہونے سے پہلے ہی بہتر ہو جاتی ہیں۔ جراثیم کا ختم ہونا صرف دوبارہ ٹیسٹ سے پتا چلتا ہے۔
اس موضوع پر ڈاکٹر صاحب کی ویڈیوایچ پائلوری دوا لینے کے باوجود ختم کیوں نہیں ہوتا؟یوٹیوب پر دیکھیںاکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا ایچ پائلوری گھر والوں میں پھیل سکتا ہے؟
علاج کے دوران منہ کڑوا ہو جائے یا پاخانہ کالا آئے تو کیا کریں؟
کیا شہد، لہسن یا کوئی خاص غذا ایچ پائلوری ختم کر سکتی ہے؟
کوئٹہ میں ایچ پائلوری کا ٹیسٹ کیسے کروائیں؟
ڈاکٹر شربت خان سے معائنے کے لیے وقت کیسے لیں؟
یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں اور ڈاکٹر کے معائنے کا متبادل نہیں۔ کوئی بھی دوا شروع یا بند کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔